محمد جمیل اسلام آباد کے ایک رہائشی سیکٹر میں نجی ملازمت کے علاوہ محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں اور والدین کا پیٹ پالتے ہیں۔ 34 برس کے محمد جمیل کو گذشتہ ماہ اس وقت خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے اپنی جمع پونجی سے ڈھائی ہزار روپے صرف بجلی کے بل کے لیے علیحدہ کیے۔
ان کی پریشانی کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے گھر پر نہ ایئر کنڈیشنر چل رہا ہے، نہ ایئر کولر نصب ہے اور نہ ہی بجلی کے ہیٹر یا واشنگ مشین جیسی سہولیات دستیاب ہیں۔ اب وہ بھی یہی سوچتے ہیں کہ آخر بل میں اس قدر اضافہ کیسے ہوا؟
محمد جمیل کے دو بچے ہیں اور والدین بھی ان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
محمد جمیل کو یاد ہے کہ سنہ 2018 تک ان کا بجلی کا بل ایک ہزار روپے یا اس سے بھی کم کا ہوتا تھا۔ مگر اب یہ دگنے سے بھی بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق ان کا گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ بل گیارہ سو روپے تک ہوتا تھا اور سردیوں میں یہ اس سے بھی کم ہوتا تھا کیونکہ وہ 200 یونٹ سے کم بجلی پر گزارا کر لیتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment